“Should the preacher bring forth proof to justify the cup of wine, Iqbal is obstinate enough that drinking, too, he would decline.”
اگر واعظ شراب کے جائز ہونے کے حق میں کوئی ثبوت بھی لے آئے، تو اقبال کی یہ ضد ہے کہ وہ شراب پینا ہی چھوڑ دے گا۔
اس شعر میں اقبالؔ نے رند اور واعظ کی روایتی کشمکش کو ایک شگفتہ اور دلچسپ الٹ پھیر کے ساتھ پیش کیا ہے۔ عام طور پر شاعر واعظ کی بندشوں سے بغاوت کرتے ہوئے بادہ خواری کرتا ہے، مگر اقبالؔ کہتے ہیں کہ اگر واعظ مے کو جائز ٹھہرانے کی دلیلیں لانے لگے تو وہ اپنی ضد میں پینا ہی چھوڑ دیں گے۔ دراصل یہ واعظ کے بے جان فتووں اور مصلحت پسندی پر ایک لاجواب طنز ہے، جس کا اشارہ یہ ہے کہ جس چیز پر واعظ کی پارسائی کی مہر لگ جائے، اس کی ساری کشش اور بے خودی غارت ہو جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
