سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے

“This is devotion to the Divine, not a merchant's trade; O heedless one, renounce even the desire for reward.”

— علامہ اقبال
معنی

یہ خدا کی عبادت ہے، کوئی تجارت نہیں؛ اے بے خبر، تُو بدلے یا جزا کی خواہش بھی ترک کر دے۔

تشریح

شاعر اس شعر میں سمجھاتے ہیں کہ بندگی اور عشقِ الٰہی کوئی کاروباری سودا نہیں ہے جہاں نفع اور نقصان کا حساب لگایا جائے۔ اگر عبادت کے بدلے اجر یا جنت کی خواہش رکھی جائے تو یہ تجارت بن جاتی ہے، اخلاص نہیں۔ سچی عبادت تو وہ بے لوث اور بے غرض محبت ہے جو کسی صلے کی تمنا کے بغیر سر تسلیم خم کر دے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.