“'Tis well that intellect remains as guardian to the heart, yet now and then, pray leave the heart to wander all alone.”
یہ اچھا ہے کہ عقل دل کی نگہبان بن کر اس کے ساتھ رہے، لیکن کبھی کبھی دل کو تنہا بھی چھوڑ دینا چاہیے۔
علامہ اقبال نے یہاں عقل کو دل کا ایک مخلص چوکیدار قرار دیا ہے جو اسے خطرات اور بے راہ روی سے محفوظ رکھتا ہے۔ بلاشبہ ہوش مندی اور تدبیر زندگی کے لیے ضروری ہے، مگر ہر گھڑی نفع و نقصان کی قید میں رہنے سے جذبے اور محبت کی اصل خوبصورتی چھن جاتی ہے۔ اسی لیے وہ مشورہ دیتے ہیں کہ کبھی کبھار عقل کی گرفت ڈھیلی چھوڑ دینی چاہیے تاکہ دل اپنی مرضی سے دھڑک سکے اور وجدان کی وادیوں میں آزادانہ سانس لے سکے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
