“There is an audacity in asking yet again, O Moses; true surrender demands you abandon the asking itself.”
اے کلیم (موسیٰ)، بار بار سوال دہرانے میں ایک طرح کی گستاخی ہے؛ رضائے الٰہی کی شرط تو یہ ہے کہ تم تقاضا کرنا بھی چھوڑ دو۔
اس شعر میں حضرت موسیٰ (کلیم) کے دیدارِ الٰہی کی تکرار کا خوبصورت تلمیحی ذکر ہے۔ شاعر سمجھاتے ہیں کہ کسی طلب کو بار بار دہرانے میں ایک بے باک شوخی اور لاڈ کا رنگ جھلکتا ہے۔ عشق اور تسلیم و رضا کا اعلیٰ ترین مقام تو یہ ہے کہ انسان اپنے سارے تقاضے مٹا کر محبوب کی خوشنودی میں سر تسلیم خم کر دے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
