“O preacher, true fulfillment comes through renunciation complete: having forsaken this world, renounce the hereafter too.”
اے واعظ! یہاں مراد مکمل طور پر سب کچھ چھوڑ دینے سے ہی ملتی ہے؛ اگر تو نے دنیا ترک کر دی ہے تو پھر آخرت کی طلب بھی چھوڑ دے۔
شاعر یہاں روایتی واعظ پر ایک بڑی لطیف اور معنی خیز چوٹ کر رہا ہے کہ اصل فقر اور سچا کمال تو بے لوث ہونے میں ہے۔ اگر تم نے دنیا کی لذتیں محض آخرت کی نعمتوں کے بدلے میں چھوڑی ہیں، تو یہ تو روحانی سودے بازی ہوئی۔ باطنی سچائی اور اصل مراد تبھی حاصل ہوتی ہے جب انسان جزا اور سزا کی تمنا سے بھی بلند ہو کر صرف حقیقت کا طلب گار بن جائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
