“Weep like the dew upon the flowers, then depart the garden floor; abandon even the mad obsession of dwelling here forevermore.”
شبنم کی طرح پھولوں پر آنسو بہا کر اس چمن سے رخصت ہو جاؤ، اور اس باغ میں ہمیشہ قیام کرنے کا سودا اور ارادہ بھی ترک کر دو۔
شاعر نے اس شعر میں انسانی زندگی کی بے ثباتی کو شبنم کے استعارے سے کمال خوبصورتی کے ساتھ پرویا ہے۔ جس طرح شبنم پھولوں پر اپنے آنسو نچھاور کر کے صبح کے ساتھ ہی رخصت ہو جاتی ہے، انسان کو بھی اس فانی دنیا میں مستقل ٹھہرنے کا جنون چھوڑ دینا چاہیے۔ اس باغ کے حسن اور دکھ کو جی بھر کر محسوس تو کرو، مگر یاد رکھو کہ یہ قیام محض عارضی ہے اور کوچ لازمی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
