Sukhan AI
غزل

कभी ऐ हक़ीक़त-ए-मुंतज़र नज़र आ लिबास-ए-मजाज़ में

कभी ऐ हक़ीक़त-ए-मुंतज़र नज़र आ लिबास-ए-मजाज़ में
علامہ اقبال· Ghazal· 14 shers

یہ غزل ایک منتظر سچائی (حقیقتِ منتظر) سے التجا ہے کہ وہ کبھی استعارہ (مجاز) کے پردے سے ظاہر ہو۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ ان کی عبادت اور تڑپ سے بھٹے ماتھے پر، وہ سچائی صرف علامات میں نہیں، بلکہ واضح طور پر ظاہر ہونا چاہیے۔ یہ ایک پکار ہے کہ جو چیزیں پردے کے پیچھے چھپی ہیں، انہیں نکل کر زندگی میں موسیقی اور وضاحت لانی چاہئیں۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
कभी ऐ हक़ीक़त-ए-मुंतज़र नज़र आ लिबास-ए-मजाज़ में कि हज़ारों सज्दे तड़प रहे हैं मिरी जबीन-ए-नियाज़ में
اے حقیقتِ منتظر، اگر تو کسی دکھاوے یا وہم کی شکل میں کبھی نظر آ جائے، تو یہ جان لے کہ میری نِیاز میں ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں۔
2
ओ प्रतीक्षित सत्य, कभी तो रूपक के आवरण में प्रकट हो क्योंकि मेरी भक्ति भरे माथे पर हजारों सज्दे तड़प रहे हैं
اے منتظر سچ، کبھی تو استعارے کے پردے سے ظاہر ہو جا۔ کیونکہ میرے عقیدت مند ماتھے پر ہزاروں سجدے کرنے کو تڑپ رہے ہیں۔
3
तरब-आशना-ए-ख़रोश हो तू नवा है महरम-ए-गोश हो वो सरोद क्या कि छुपा हुआ हो सुकूत-ए-पर्दा-ए-साज़ में
اے غم کا آشیانہ بن جا، تو میرے دل کا رازدار ہے؛ وہ سارود کیا ہے جو ساز کے پردے کی خاموشی میں چھپا ہے۔
4
उमंग को जोश दे, तू ध्वनि है कानों से परिचय बढ़ा वो साज किस काम का, जो चुपचाप पर्दे में छिपा पड़ा रहे
تم وہ آواز ہو جو جوش و خروش دیتی ہے اور کانوں سے پہچان بڑھاتی ہے۔ وہ آلہ کس کام کا، جو خاموشی سے پردے میں چھپا پڑا رہے۔
5
तू बचा बचा के न रख इसे तिरा आइना है वो आइना कि शिकस्ता हो तो अज़ीज़-तर है निगाह-ए-आइना-साज़ में
تُو بچا بچا کے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ کہ شِکستہ ہو تو اَزیزتر ہے نِگاہِ اِئینہ ساز میں
6
इस आईने को इतना संभालकर मत रख, इसे टूटने से मत बचा क्योंकि टूटा हुआ आईना ही आईना बनाने वाले की नजर में सबसे कीमती होता है
اس آئینے کو اتنا سنبھال کر مت رکھنا، اسے ٹوٹنے سے مت بچانا، کیونکہ ٹوٹا ہوا آئینہ ہی آئینے بنانے والے کی نظر میں سب سے قیمتی ہوتا ہے۔
7
दम-ए-तौफ़ किरमक-ए-शम्अ ने ये कहा कि वो असर-ए-कुहन न तिरी हिकायत-ए-सोज़ में न मिरी हदीस-ए-गुदाज़ में
دمِ اِتوف اور کِرمَکِ شمع نے یہ کہا کہ وہ اثرِ قدیم نہ تیری حِکایتِ سوز میں ہے اور نہ میری حَدیثِ گداز میں۔
8
जब पतंगा लौ के चारों ओर घूम रहा था, तो उसने ये कहा वो पुरानी तपिश अब न तेरी जलन की कहानी में है, न मेरे पिघलने की दास्तान में
جب पतंगा لو کے گرد گھوم رہا تھا، تو اس نے کہا، ’وہ پرانی تپش نہ تیری جلن کی کہانی میں ہے، نہ میرے پگھلنے کی داستان میں۔‘
9
न कहीं जहाँ में अमाँ मिली जो अमाँ मिली तो कहाँ मिली मिरे जुर्म-ए-ख़ाना-ख़राब को तिरे अफ़्व-ए-बंदा-नवाज़ में
کون سی جگہ ہے جہاں میں نے یہ پایا؟ اگر پایا ہے، تو یہ میرے گناہ گار اور خراب اعمال کے لیے تمہاری فضل والی باتوں میں ملا ہے۔
13
जो मैं सर-ब-सज्दा हुआ कभी तो ज़मीं से आने लगी सदा तिरा दिल तो है सनम-आश्ना तुझे क्या मिलेगा नमाज़ में
اگر میں کبھی سر پر سجا ہوا تاج ہوا، تو زمین سے ایک نغمہ نکلے گا؛ لیکن تیرا دل، محبوب، تو مجھے پہلے سے ہی معلوم ہے، تو نماز میں کیا پائے گا۔
14
जब मैंने सज्दा के लिये सर झुकाया तो ज़मीन से एक आवाज़ आने लगी तेरा दिल तो बुतों के प्रेम ही परिचित है, तुझे नमाज़ से क्या मिलेगा?
جب میں نے سجدے کے لیے سر جھکایا تو زمین سے ایک آواز آنے لگی، جس نے کہا، 'تیرا دل تو بتوں کے عشق سے ہی واقف ہے؛ تجھے نماز سے کیا ملے گا?'
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

कभी ऐ हक़ीक़त-ए-मुंतज़र नज़र आ लिबास-ए-मजाज़ में | Sukhan AI