ओ प्रतीक्षित सत्य, कभी तो रूपक के आवरण में प्रकट हो
क्योंकि मेरी भक्ति भरे माथे पर हजारों सज्दे तड़प रहे हैं
“O awaited truth, reveal yourself from the veil of metaphor, For thousands of salutations yearn upon my devoted brow.”
— علامہ اقبال
معنی
اے منتظر سچ، کبھی تو استعارے کے پردے سے ظاہر ہو جا۔ کیونکہ میرے عقیدت مند ماتھے پر ہزاروں سجدے کرنے کو تڑپ رہے ہیں۔
تشریح
یہ شعر حقیقت کی تلاش اور انتظار کی کیفیت بیان کرتا ہے۔ शायर کہتے ہیں کہ سچائی کبھی کھل کر سامنے نہیں آتی، وہ ہمیشہ کسی پردے میں رہتی ہے۔ اور وہ انتظار.... دل کو ہزاروں سجدوں کی تڑپ دے جاتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
