غزل

محبت کا تری بندہ ہر اک کو اے صنم پایا

محبت کا تری بندہ ہر اک کو اے صنم پایا

Source: Kulliyat-e-Aatish (Matba Munshi Naval Kishore, Lucknow) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
मोहब्बत का तिरी बंदा हर इक को ऐ सनम पाया बराबर गर्दन-ए-शाह-ओ-गदा दोनों को ख़म पाया
محبت کا تری بندہ ہر اک کو اے صنم پایا برابر گردن شاہ و گدا دونوں کو خم پایا
اے صنم، میں نے ہر ایک کو تیری محبت کا بندہ پایا؛ بادشاہ اور فقیر دونوں کی گردن برابر جھکی ہوئی پائی۔
2
ब-रंग-ए-शम्अ जिस ने दिल जलाया तेरी धुन में तो उस ने मंज़िल-ए-मक़्सूद को ज़ेर-ए-क़दम पाया
برنگ شمع جس نے دل جلایا تیری دُھن میں تو اُس نے منزل مقصود کو زیر قدم پایا
جس نے شمع کی طرح تیری دُھن میں اپنا دل جلایا، اُس نے اپنی منزلِ مقصود کو اپنے قدموں کے نیچے پا لیا۔
3
बजा करते हैं आशिक़ ताक़-ए-अब्रू की परस्तारी यही मेहराब-ए-दैर-ओ-काबा में भी हमने ख़म पाया
بجا کرتے ہیں عاشق طاق ابرو کی پرستاری یہی محراب دیر و کعبہ میں بھی ہمنے خم پایا
عاشق ہمیشہ محبوب کی ابرو کی محراب کی پرستش کرتے رہتے ہیں؛ یہی خم (جھکاؤ) ہم نے مندر اور کعبہ کی محراب میں بھی پایا۔
4
निशाना तीर-ए-तोहमत का रहे मेरा अख़्तर-ए-ताले उठाऊँ दाग़ मैं तो आसमान समझे दरम पाया
نشانہ تیر تہمت کا رہے میرا اختر طالع اُٹھاؤں داغ میں تو آسمان سمجھے درم پایا
میرا نصیب کا ستارہ تہمت کے تیر کا نشانہ بنا رہے؛ جب بھی میں الزام کا کوئی داغ اٹھاتا ہوں تو آسمان سمجھتا ہے کہ مجھے کوئی سکہ مل گیا ہے۔
5
हज़ारों हसरतें जावेंगी मेरे साथ दुनिया से शरार-ओ-बर्क़ से भी अर्सा-ए-हस्ती को कम पाया
ہزاروں حسرتیں جاویں گی میرے ساتھ دنیا سے شرار و برق سے بھی عرصۂ ہستی کو کم پایا
ہزاروں ادھوری خواہشیں میرے ساتھ ہی اس دنیا سے چلی جائیں گی؛ میں نے زندگی کے عرصے کو چنگاری اور بجلی کی چمک سے بھی کم پایا۔
6
सिवाए रंज कुछ हासिल नहीं है इस ख़राबे में ग़नीमत जान जो आराम तू ने कोई दम पाया
سوائے رنج کچھ حاصل نہیں ہے اس خرابے میں غنیمت جان جو آرام تو نے کوئی دم پایا
اس اجڑی ہوئی دنیا میں رنج کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا؛ اگر تجھے ایک پل کا بھی آرام مل جائے تو اسے غنیمت جان۔
7
नज़र आया तमाशा-ए-जहाँ जब बंद कीं आँखें सफ़ा-ए-क़ल्ब से पहलू में हमने जाम-ए-जम पाया
نظر آیا تماشائے جہان جب بند کین آنکھین صفائے قلب سے پہلو مین ہمنے جام جم پایا
جب میں نے آنکھیں بند کیں تو دنیا کا سارا تماشا مجھے نظر آ گیا؛ دل کی صفائی سے اپنے ہی پہلو میں مجھے جامِ جم مل گیا۔
8
जलाया और मारा हुस्न की नैरंग-साज़ी ने कभी बर्क़-ए-ग़ज़ब उसको कभी अब्र-ए-करम पाया
جلایا اور مارا حُسن کی نیرنگ سازی نے کبھی برق غضب اُسکو کبھی ابر کرم پایا
حُسن کی رنگ بدلتی ادا نے مجھے جلایا بھی اور مارا بھی؛ کبھی وہ مجھ پر غضب کی بجلی بن کر گرا تو کبھی مہربانی کا بادل بن کر برسا۔
9
फ़िराक़-अंजाम काम आग़ाज़-ए-वस्लत का बिला-शक है बहुत रोया मैं रूह-ओ-तन को जब मुश्ताक़-ए-हम पाया
فراق انجام کام آغازِ وصلت کا بلاشک ہے بہت رویا مین رُوح و تن کو جب مشتاق ہم پایا
وصل کے آغاز کا انجام بے شک جدائی ہی ہے؛ میں بہت رویا جب میں نے اپنی روح اور تن کو ایک دوسرے کے لیے مشتاق پایا۔
10
हर इक जौहर में उसका नक़्श-ए-पा-ए-रफ़्तगाँ समझा दम-ए-शमशीर-ए-क़ातिल जादा-ए-राह-ए-अदम पाया
ہر اک جوہر مین اُسکا نقش پائے رفتگان سمجھا دم شمشیر قاتل جادۂ راہِ عدم پایا
تلوار کی دھار کے ہر جوہر میں اُس نے گزر جانے والوں کے قدموں کے نشان دیکھے؛ قاتل کی تلوار کی دھار کو اُس نے فنا کی راہ کا راستہ پایا۔
11
हमारा काबा-ए-मक़्सूद तेरा ताक़-ए-अब्रू है तिरी चश्म-ए-सियह को हम ने आहू-ए-हरम पाया
ہمارا کعبۂ مقصود تیرا طاق ابرو ہے تری چشم سیہ کو ہم نے آہوئے حرم پایا
ہماری مراد و مقصود کا کعبہ تیری محراب نما بھوں ہے؛ اور تیری سیاہ آنکھ کو ہم نے حرم کے ہرن کی مانند پایا۔
12
हुआ हरगिज़ न ख़त-ए-शौक़ का सामान दस्त-ए-आतिश सियाही हो गई नायाब अगर हम ने क़लम पाया
ہوا ہرگز نہ خط شوق کا سامان دستِ آتشؔ سیاہی ہو گئی نایاب اگر ہم نے قلم پایا
آتشؔ کے ہاتھ میں کبھی خطِ شوق لکھنے کا سامان نہ آ سکا؛ جب بھی ہم نے قلم اٹھایا، سیاہی ہی نایاب ہو گئی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.