ہر اک جوہر مین اُسکا نقش پائے رفتگان سمجھا — خواجہ حیدر علی آتش
“In every glint of steel I read the footprints of the departed ones; The edge of the slayer's sword I found to be the road to nothingness.”
معنی
تلوار کی دھار کے ہر جوہر میں اُس نے گزر جانے والوں کے قدموں کے نشان دیکھے؛ قاتل کی تلوار کی دھار کو اُس نے فنا کی راہ کا راستہ پایا۔
تشریح
ذرا سوچیے، شاعر تلوار کے فولاد کی ہر چمک میں اُن لوگوں کے نقشِ پا دیکھ رہا ہے جو اِس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ قاتل کی تلوار کی دھار اُسے موت اور 'عدم' یعنی نیستی کی راہ کی مانند دکھائی دیتی ہے — جیسے وہی فولاد اُس راستے کا نقشہ ہو جس پر چل کر سب رخصت ہو جاتے ہیں۔ اِس میں زندگی کی بے ثباتی اور موت کی اٹل حقیقت کا ایک گہرا، روحانی احساس پوشیدہ ہے کہ ہر چمک کے پیچھے فنا کی داستان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
