فراق انجام کام آغازِ وصلت کا بلاشک ہے — خواجہ حیدر علی آتش
“The work of union's dawn ends surely in the pain of parting's night; I wept so much when I found soul and body yearning for each other's sight.”
معنی
وصل کے آغاز کا انجام بے شک جدائی ہی ہے؛ میں بہت رویا جب میں نے اپنی روح اور تن کو ایک دوسرے کے لیے مشتاق پایا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر ایک گہری سچائی بیان کرتا ہے کہ وصل کی ہر ابتدا میں جدائی کا انجام چھپا ہوتا ہے؛ ملن کی صبح ہی بچھڑنے کی رات کی خبر دے دیتی ہے۔ سب سے دردناک منظر یہ ہے کہ جب اُس نے اپنی روح اور تن کو ایک دوسرے کے لیے تڑپتا دیکھا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا — گویا اُس کا اپنا وجود ہی دو حصوں میں بٹ کر ایک دوسرے کا مشتاق ہو گیا۔ یہ اس بات کا نرم اشارہ ہے کہ ملاپ کی خوشی میں بھی ایک خاموش غم بسا رہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
