بجا کرتے ہیں عاشق طاق ابرو کی پرستاری — خواجہ حیدر علی آتش

بجا کرتے ہیں عاشق طاق ابرو کی پرستاری یہی محراب دیر و کعبہ میں بھی ہمنے خم پایا

“Lovers forever worship at the arch of the beloved's brow; this selfsame curve I found in temple's niche and Kaaba's vault somehow.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

عاشق ہمیشہ محبوب کی ابرو کی محراب کی پرستش کرتے رہتے ہیں؛ یہی خم (جھکاؤ) ہم نے مندر اور کعبہ کی محراب میں بھی پایا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر محبوب کے کمان دار ابرو کو عبادت گاہ بنا دیتا ہے — عاشق ہمیشہ اسی طاقِ ابرو کی پرستش میں مصروف رہتے ہیں۔ پھر وہ کمال کی بات کہتا ہے کہ یہی خم، یہی ٹیڑھی محراب اسے مندر کے طاق میں اور کعبہ کی محراب میں بھی دکھائی دی۔ گہرا مطلب یہ ہے کہ عشق اور عبادت ایک ہی شے ہیں — چاہے دیر ہو یا کعبہ، ہر جھکاؤ میں وہی محبوب کے ابرو کا خم پوشیدہ ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.