سوائے رنج کچھ حاصل نہیں ہے اس خرابے میں — خواجہ حیدر علی آتش
“Nothing but sorrow is to be gained in this ruin of a world; Count it a blessing if for a breath you found some ease.”
معنی
اس اجڑی ہوئی دنیا میں رنج کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا؛ اگر تجھے ایک پل کا بھی آرام مل جائے تو اسے غنیمت جان۔
تشریح
شاعر اس دنیا کو ایک اجڑے ہوئے ویرانے کی مانند دیکھتا ہے، جہاں آخرِکار ہاتھ غم کے سوا کچھ نہیں آتا۔ وہ نرمی سے کہتا ہے کہ اگر زندگی کے کسی ایک لمحے میں تجھے تھوڑا سا سکون مل جائے تو اُسے غنیمت اور نعمت جان کر سنبھال لے۔ اس شعر میں خاموش دانائی ہے کہ اس فانی جہان میں بڑی خوشیوں کی آس لگانے کے بجائے چھوٹے چھوٹے راحت کے پل ہی اصل سرمایہ ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
