ہوا ہرگز نہ خط شوق کا سامان دستِ آتشؔ — خواجہ حیدر علی آتش
“Never could the fire's hand prepare the means for passion's letter; The ink itself grew scarce, if ever we laid hold upon the pen.”
معنی
آتشؔ کے ہاتھ میں کبھی خطِ شوق لکھنے کا سامان نہ آ سکا؛ جب بھی ہم نے قلم اٹھایا، سیاہی ہی نایاب ہو گئی۔
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنی بے بسی اور جذبے کی شدت کو ایک دلکش منظر میں سموتا ہے۔ 'دستِ آتش' یعنی آگ کا ہاتھ جو جلتا تو ہے مگر محبت کا خط کبھی لکھ نہیں پاتا، اور جب قلم ہاتھ میں آیا تو سیاہی ہی نایاب ہو گئی۔ گہرائی میں دیکھیں تو یہ اُس دل کی داستان ہے جس کا جذبہ اتنا سلگتا ہے کہ الفاظ، سیاہی اور قلم سب اِس بے پایاں شوق کے آگے ناکام ہو جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
