جلایا اور مارا حُسن کی نیرنگ سازی نے — خواجہ حیدر علی آتش

جلایا اور مارا حُسن کی نیرنگ سازی نے کبھی برق غضب اُسکو کبھی ابر کرم پایا

“Beauty's wondrous craft has both burned me and slain— at times the lightning of its wrath, at times the cloud of grace I found.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

حُسن کی رنگ بدلتی ادا نے مجھے جلایا بھی اور مارا بھی؛ کبھی وہ مجھ پر غضب کی بجلی بن کر گرا تو کبھی مہربانی کا بادل بن کر برسا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر محبوب کے حُسن کی جادوگری یعنی نیرنگ سازی پر حیران ہے، جو عاشق کو کبھی جلا دیتی ہے تو کبھی مار ہی ڈالتی ہے۔ دو خوبصورت متضاد استعارے یہاں آمنے سامنے ہیں: 'برقِ غضب' یعنی غصے کی بجلی جو پل بھر میں جھلسا دیتی ہے، اور 'ابرِ کرم' یعنی مہربانی کا بادل جو سکون برساتا ہے۔ گہری بات یہ ہے کہ حُسن کی فطرت ہی ایسی ہے — وہ ایک ہی لمحے میں قہر بھی ہے اور کرم بھی، اور عاشق دونوں حالتوں میں برابر بے بس رہتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.