نشانہ تیر تہمت کا رہے میرا اختر طالع — خواجہ حیدر علی آتش
“May the star of my destiny stay the target of accusation's arrow; / Whenever I bear a scar of blame, the sky thinks I have gained a coin.”
معنی
میرا نصیب کا ستارہ تہمت کے تیر کا نشانہ بنا رہے؛ جب بھی میں الزام کا کوئی داغ اٹھاتا ہوں تو آسمان سمجھتا ہے کہ مجھے کوئی سکہ مل گیا ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنے نصیب کے ستارے کو تہمت کے تیر کا نشانہ بنا دیتا ہے — گویا بدنامی اور الزام ہی اُس کا مقدر بن گئے ہیں۔ کتنی خوبصورت بات ہے کہ جب اُس کے سینے پر داغ اُبھرتا ہے تو آسمان اُسے ایسے سمجھتا ہے جیسے کوئی سکہ (درم) ہاتھ آ گیا ہو۔ یوں شاعر کے زخم اور رسوائیاں اس دنیا کے لیے دولت کی مانند ہیں، اور وہ اپنے درد کو بھی ایک عجیب سے وقار اور طنز کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
