نظر آیا تماشائے جہان جب بند کین آنکھین — خواجہ حیدر علی آتش
“The spectacle of the world appeared to me the moment I closed my eyes; From the pure mirror of the heart, within my breast, I found the cup of Jamshid.”
معنی
جب میں نے آنکھیں بند کیں تو دنیا کا سارا تماشا مجھے نظر آ گیا؛ دل کی صفائی سے اپنے ہی پہلو میں مجھے جامِ جم مل گیا۔
تشریح
کتنی پیاری بات کہی ہے شاعر نے — دنیا کا سارا تماشا تب نظر آیا جب آنکھیں بند کر لیں، یعنی اصل نظارہ باہر نہیں بلکہ اندر ہے۔ جامِ جم وہ افسانوی پیالہ ہے جس میں جمشید ساری کائنات دیکھ لیتا تھا، مگر یہاں شاعر کہتا ہے کہ صاف دل ہی وہ پیالہ ہے۔ پیغام واضح ہے — سچائی باہر بھٹکنے سے نہیں بلکہ اپنے پاکیزہ دل کے آئینے میں ملتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
