غزل
حُسنِ پری اک جلوۂ مستانہ ہے اُسکا
حُسنِ پری اک جلوۂ مستانہ ہے اُسکا
Source: Kulliyat-e-Aatish (Matba Munshi Naval Kishore, Lucknow) · HI
نغمہ سنیں
1
हुस्न-ए-परी इक जल्वा-ए-मस्ताना है उसका
होशियार वही हो कि जो दीवाना है उस का
حُسنِ پری اک جلوۂ مستانہ ہے اُسکا
ہشیار وہی ہو کہ جو دیوانہ ہے اُس کا
پری کا حُسن تو بس اُسی کی ایک مستانہ جھلک ہے؛ سچا ہوشیار وہی ہے جو اُس کے عشق میں دیوانہ ہو گیا ہے۔
2
गुल आते हैं बस्ती में अदम से ब-हमा-गोश
बुलबुल का ये नाला नहीं अफ़्साना हो उस का
گُل آتے ہیں بستی میں عدم سے بہمۂ گوش
بلبل کا یہ نالہ نہیں افسانہ ہو اُس کا
پھول عدم سے بستی میں پوری طرح کان لگائے ہوئے آتے ہیں؛ یہ بلبل کا نالہ نہیں بلکہ اُسی کی کہانی ہے۔
3
गिर्यां हो अगर शम्अ तो सर धुनता है शोला
मालूम हुआ सोख़्ता परवाना है उस का
گریاں ہو اگر شمع تو سردُھنتا ہے شعلہ
معلوم ہوا سُوختہ پروانہ ہے اُس کا
اگر شمع روئے تو شعلہ اپنا سر پیٹتا ہے؛ تب معلوم ہوا کہ وہ جلا ہوا پروانہ اُسی کا تھا۔
4
वो शोख़ निहाँ गंज के मानिंद हो इसमें
मामूरा-ए-आलम जो है वीराना है उस का
وہ شوخ نہان گنج کے مانند ہو اسمیں
معمورۂ عالم جو ہے ویرانہ ہے اُس کا
وہ شوخ محبوب اس میں چھپے خزانے کی مانند پوشیدہ ہے؛ دنیا کی یہ آباد بستی دراصل اسی کے ویرانے کی مثل ہے۔
5
जो चश्म कि हैरान हुई आईना हो उसकी
जो सीना कि सद चाक हुआ शाना हो उस का
جو چشم کہ حیران ہوئی آئینہ ہو اُسکی
جو سینہ کہ صد چاک ہوا شانہ ہو اُس کا
جو آنکھ حیرت سے بھر گئی اُس کے لیے آئینہ ہو جائے، اور جو سینہ سو ٹکڑوں میں بٹ گیا اُس کے لیے کنگھی ہو جائے۔
6
दिल क़स्र-ए-शहंशह हो वो शोख़ आमीन शहंशाह
अर्सा ये दो आलम का जिलौ-ख़ाना हो उस का
دل قصر شہنشہ ہو وہ شوخ آمین شہنشاہ
عرصہ یہ دو عالم کا جلوخانہ ہو اُس کا
دل بادشاہ کا محل بن جائے اور وہ شوخ محبوب اُس میں بادشاہ کی طرح جلوہ افروز ہو، اور یہ دونوں جہان اُس کے تختِ شاہی کے سامنے پھیلے ہوئے صحن بھر رہ جائیں۔
7
वो याद है उसकी कि भुला दे दो जहान को
हालत को करे ग़ैर वो याराना हो उस का
وہ یاد ہے اُسکی کہ بھلا دے دو جہان کو
حالت کو کرے غیر وہ یارانہ ہو اُس کا
اُس کی یاد ایسی ہے کہ دونوں جہان بھلا دے؛ کاش وہ یارانہ مجھے ملے جو میری حالت ہی بدل دے۔
8
यूसुफ़ नहीं जो हाथ लगे चंद दिरम से
क़ीमत जो दो आलम की हो बयाना हो उस का
یوسف نہیں جو ہاتھ لگے چند درم سے
قیمت جو دو عالم کی ہو بیعانہ ہو اُس کا
وہ یوسف نہیں جو چند سکوں میں ہاتھ آ جائے؛ جس کی قیمت دونوں جہان ہوں، دو عالم تو محض اُس کا بیعانہ ہوں گے۔
9
अल्लाह रे सफ़ा-ए-दो-बिना-गोश का आलम
मुश्ताक़ हर एक गौहर-ए-यकदाना है उस का
اللہ رے صفائے دو بنا گوش کا عالم
مشتاق ہر ایک گوہر یکدانہ ہے اُس کا
اللہ رے اُن دونوں کانوں کی لو کی صفائی کا عالم؛ ہر ایک یکتا موتی اُنہیں پانے کا مشتاق ہے۔
10
आवारगी-ए-निकहत-ए-गुल है ये इशारा
जामा से जो बाहर है वो दीवाना हो उस का
آوارگی نکہت گل ہے یہ اشارا
جامہ سے جو باہر ہے وہ دیوانہ ہو اُس کا
پھول کی خوشبو کا یوں آوارہ پھرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ جو اپنے لباس سے باہر نکل آئے وہ اُس کا دیوانہ ہو جاتا ہے۔
11
ये हाल हुआ उस के फ़क़ीरों से हुवैदा
आलूदा-ए-दुनिया जो है बेगाना है उस का
یہ حال ہوا اُس کے فقیروں سے ہویدا
آلودۂ دنیا جو ہے بیگانہ ہے اُس کا
اُس کے فقیروں سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ جو دنیا میں آلودہ ہے وہ اُس سے بیگانہ رہتا ہے۔
12
शुक्राना साक़ी-ए-अज़ल करता हो आतिश
लबरेज़ मय-ए-शौक़ से पैमाना हो उस का
شکرانہ ساقی ازل کرتا ہو آتش
لبریز مئے شوق سے پیمانہ ہو اُس کا
آتش ازل کے ساقی کا شکریہ ادا کرے کہ اُس کا پیمانہ شوق کی مے سے لبریز ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
