حُسنِ پری اک جلوۂ مستانہ ہے اُسکا — خواجہ حیدر علی آتش
“The beauty of the fairy is but one intoxicated glimpse of Him, Truly wise is only he who has gone mad for love of Him.”
معنی
پری کا حُسن تو بس اُسی کی ایک مستانہ جھلک ہے؛ سچا ہوشیار وہی ہے جو اُس کے عشق میں دیوانہ ہو گیا ہے۔
تشریح
شاعر کہتے ہیں کہ پری کا سارا حُسن دراصل اُس محبوب کی ایک مستانہ جھلک ہے — دنیا کی ہر خوبصورتی اُسی ایک جلوے کا عکس ہے۔ گہری بات یہ ہے کہ اصل ہوشیار وہی ہے جو اُس کے عشق میں دیوانہ ہو جائے؛ یہاں دیوانگی ہی سب سے بڑی دانائی بن جاتی ہے۔ عقل والے جس حقیقت کو نہیں پا سکتے، اُسے صرف وہی عاشق پہچانتا ہے جو خود کو محبت میں کھو دے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
