جو چشم کہ حیران ہوئی آئینہ ہو اُسکی — خواجہ حیدر علی آتش
“The eye that was struck with wonder—let a mirror be its own; The breast that was torn to a hundred shreds—let a comb be its own.”
معنی
جو آنکھ حیرت سے بھر گئی اُس کے لیے آئینہ ہو جائے، اور جو سینہ سو ٹکڑوں میں بٹ گیا اُس کے لیے کنگھی ہو جائے۔
تشریح
اس شعر میں درد اور ٹوٹن کو نہایت نزاکت سے ان کے موزوں ساتھی عطا کیے گئے ہیں۔ جو آنکھ حیرت سے جم گئی، اُس کے لیے آئینہ موزوں ہے، کیونکہ آئینہ بھی حیرت میں ٹھہری ہوئی نگاہ کی طرح ساکت رہتا ہے۔ اور جو سینہ سو ٹکڑے ہوا، اُس کے لیے کنگھی مناسب ہے، جس کے کئی دندانے اُسے بھی چاک چاک بنا دیتے ہیں۔ شاعر گویا کہتا ہے کہ ہر زخم کو کوئی ہم درد مل ہی جاتا ہے جو اُسی کی طرح بکھرا ہوا ہو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
