آوارگی نکہت گل ہے یہ اشارا — خواجہ حیدر علی آتش
“The wandering of the rose's fragrance gives this sign: Whoever bursts beyond his garb is maddened, and is Thine.”
معنی
پھول کی خوشبو کا یوں آوارہ پھرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ جو اپنے لباس سے باہر نکل آئے وہ اُس کا دیوانہ ہو جاتا ہے۔
تشریح
ذرا سوچیے — پھول کی خوشبو کبھی ایک جگہ ٹھہرتی نہیں، وہ آوارہ ہو کر ہوا میں بکھر جاتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ یہی اشارہ ہے کہ جو اپنے ہی لباس، یعنی اپنی ہستی کی قید سے باہر نکل جائے، وہی سچا دیوانہ ہے اور وہی تیرا ہو پاتا ہے۔ یہاں پنکھڑیوں سے باہر آتی خوشبو اُس عاشق کی مثال ہے جو اپنے وجود کی حدیں توڑ کر محبوب میں فنا ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
