دل قصر شہنشہ ہو وہ شوخ آمین شہنشاہ — خواجہ حیدر علی آتش
“Let the heart be the emperor's palace, that mischievous one the sovereign enthroned; And both the worlds a mere forecourt spread wide before his royal throne.”
معنی
دل بادشاہ کا محل بن جائے اور وہ شوخ محبوب اُس میں بادشاہ کی طرح جلوہ افروز ہو، اور یہ دونوں جہان اُس کے تختِ شاہی کے سامنے پھیلے ہوئے صحن بھر رہ جائیں۔
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنے دل کو ایک شاندار شاہی قصر بنا دیتا ہے، جس میں وہ شوخ و نٹکھٹ محبوب بادشاہ بن کر تخت پر جلوہ افروز ہو۔ اور دونوں جہان — یہ دنیا اور آخرت — اُس بادشاہ کے محل کے سامنے پھیلے ہوئے جلوخانے بھر رہ جائیں۔ یہ محبوب کی عظمت اور شان کا کمال ہے کہ عاشق کا دل اُس کا تخت ہے اور ساری کائنات محض اُس کے دربار کا صحن — عشق میں محبوب کو تمام کائنات کا بادشاہ ماننے کا اس سے بڑھ کر اظہار کیا ہوگا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
