اللہ رے صفائے دو بنا گوش کا عالم — خواجہ حیدر علی آتش

اللہ رے صفائے دو بنا گوش کا عالم مشتاق ہر ایک گوہر یکدانہ ہے اُس کا

“By God, the brilliance of those two ear-lobes, how pure— Each solitary pearl longs to adorn them, I am sure.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

اللہ رے اُن دونوں کانوں کی لو کی صفائی کا عالم؛ ہر ایک یکتا موتی اُنہیں پانے کا مشتاق ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر محبوب کے دونوں کانوں کی لووں کی پاکیزگی اور چمک پر حیران ہے اور 'اللہ رے!' کہہ کر اُس حسن کی داد دیتا ہے جو بیان سے باہر ہے۔ خوبصورت بات یہ ہے کہ یہاں موتی خود اِن لووں کا مشتاق ہے، یعنی ہر بے مثال گوہر ترستا ہے کہ اِن کانوں کی زینت بن جائے۔ عام طور پر زیور چہرے کو سنوارتا ہے، مگر یہاں معاملہ اُلٹا ہے—محبوب کی لویں اتنی حسین ہیں کہ موتی اُن سے سج کر خود کو خوش نصیب سمجھتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.