یوسف نہیں جو ہاتھ لگے چند درم سے — خواجہ حیدر علی آتش
“He is no Yusuf to be had for a few paltry coins— he whose worth is both the worlds would take but their mere down-payment.”
معنی
وہ یوسف نہیں جو چند سکوں میں ہاتھ آ جائے؛ جس کی قیمت دونوں جہان ہوں، دو عالم تو محض اُس کا بیعانہ ہوں گے۔
تشریح
شاعر یہاں اپنے محبوب کے بیش قیمت حسن کا ذکر کر رہا ہے اور اُسے یوسف سے تشبیہ دیتا ہے، جنہیں روایت میں چند درموں کے عوض بیچ دیا گیا تھا۔ مگر وہ کہتا ہے کہ یہ تو وہ یوسف بھی نہیں جو چند سکوں میں ہاتھ آ جائے؛ اِس کی قیمت تو دونوں جہان کے برابر ہے، اور دونوں عالم دے کر بھی محض بیعانہ یعنی پیشگی ہی ادا ہوگی۔ گہرے مفہوم میں یہ عشق و حسن کی اُس بے مثال قدر کا بیان ہے جو کسی دنیاوی دولت سے تولی نہیں جا سکتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
