گریاں ہو اگر شمع تو سردُھنتا ہے شعلہ — خواجہ حیدر علی آتش

گریاں ہو اگر شمع تو سردُھنتا ہے شعلہ معلوم ہوا سُوختہ پروانہ ہے اُس کا

“If the candle should fall, the flame beats its head in grief— now it is known: the burnt-out moth was its own beloved.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

اگر شمع روئے تو شعلہ اپنا سر پیٹتا ہے؛ تب معلوم ہوا کہ وہ جلا ہوا پروانہ اُسی کا تھا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر ایک نہایت نازک اور دل کو چھو لینے والا منظر پیش کرتا ہے: جب شمع جھکتی اور پگھلتی ہے تو اُس کا شعلہ سر دھنتا، یعنی ماتم کرتا دکھائی دیتا ہے، جیسے کوئی غم میں نڈھال ہو۔ اور اُسی لمحے راز کھلتا ہے کہ جو پروانہ اِسی شمع کی لَو میں جل کر خاک ہوا، وہ دراصل اُس کا اپنا محبوب تھا۔ خوبصورتی اِس اُلٹ پھیر میں ہے—عموماً ہم سمجھتے ہیں کہ صرف پروانہ دیوانہ وار عاشق ہے، مگر یہاں شمع بھی روتی ہے، گویا سچی محبت میں قاتل بھی مقتول کا ماتم کرتا ہے اور دونوں ایک ہی سوز میں بندھے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.