یہ حال ہوا اُس کے فقیروں سے ہویدا — خواجہ حیدر علی آتش
“This truth stands revealed through His mendicants, made plain: Whoever is soiled by the world remains a stranger to Him.”
معنی
اُس کے فقیروں سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ جو دنیا میں آلودہ ہے وہ اُس سے بیگانہ رہتا ہے۔
تشریح
شاعر کہتا ہے کہ خدا کی حقیقت اُس کے فقیروں اور درویشوں کے ذریعے کھل کر سامنے آتی ہے — وہی لوگ جو دنیا کے لالچ سے دامن بچاتے ہیں، اُس تک پہنچتے ہیں۔ 'آلودۂ دنیا' کی ترکیب ایک جیتی جاگتی تصویر کھینچتی ہے: جو دل دنیا کی گرد میں لتھڑا ہو، وہ اُس قربت سے اجنبی ہی رہ جاتا ہے۔ گہری بات یہ ہے کہ رب کی نزدیکی مال و منصب سے نہیں بلکہ دنیاوی آلائشوں سے پاک دل سے ملتی ہے — فقیری ہی دراصل قربت کا راستہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
