وہ یاد ہے اُسکی کہ بھلا دے دو جہان کو — خواجہ حیدر علی آتش
“Such is the memory of her that one forgets both the worlds; may that friendship be mine, which transforms my very state.”
معنی
اُس کی یاد ایسی ہے کہ دونوں جہان بھلا دے؛ کاش وہ یارانہ مجھے ملے جو میری حالت ہی بدل دے۔
تشریح
اِس شعر میں عشق کی وہ گہرائی ہے جہاں محبوب کی یاد اِتنی توانا ہو جاتی ہے کہ دونوں جہان — یہ دنیا اور عاقبت — بھول جاتے ہیں۔ شاعر ایسی دوستی، ایسے یارانے کی آرزو کرتا ہے جو اُس کے پورے وجود کو بدل ڈالے، اُسے غیر یعنی کوئی اور ہی انسان بنا دے۔ یہ محض محبت نہیں بلکہ ایک ایسی کیمیا ہے جو انسان کو اُس کی اپنی ذات سے بلند کر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
