غزل

رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف

رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف
مرزا غالب· Ghazal· 11 shers

یہ غزل رشک اور عقل کی کشمکش کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے، جہاں محبوب کا غیروں سے میل جول دل میں حسد پیدا کرتا ہے جبکہ عقل اس کی بے مروتی کا احساس دلاتی ہے۔ غالب نے اس کلام میں محبت کے اضطراب کے ساتھ کائنات کے طلسماتی اور ناپائیدار وجود پر گہرا فلسفیانہ نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔

Source: rekhta · HI

ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →
نغمہ سنیں
رسم الخط
1
रश्क कहता है कि उस का ग़ैर से इख़्लास हैफ़ अक़्ल कहती है कि वो बे-मेहर किस का आश्ना
رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا
رشک افسوس کرتا ہے کہ محبوب رقیب کے ساتھ مخلص ہے، جبکہ عقل کہتی ہے کہ وہ سنگ دل انسان بھلا کس کا دوست ہو سکتا ہے۔
2
ज़र्रा ज़र्रा साग़र-ए-मै-ख़ाना-ए-नै-रंग है गर्दिश-ए-मजनूँ ब-चश्मक-हा-ए-लैला आश्ना
ذرہ ذرہ ساغر مے خانۂ نیرنگ ہے گردش مجنوں بہ چشمک‌ ہائے لیلیٰ آشنا
اس طلسماتی دنیا کا ہر ذرہ شراب کے پیالے کی مانند ہے، اور مجنوں کا گھومنا لیلیٰ کی آنکھوں کے اشاروں سے خوب آشنا ہے۔
3
शौक़ है सामाँ-तराज़-ए-नाज़िश-ए-अरबाब-ए-अज्ज़ ज़र्रा सहरा-दस्त-गाह ओ क़तरा दरिया-आश्ना
شوق ہے ساماں طراز نازش ارباب عجز ذرہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا
شوق عاجز اور بے بس لوگوں کے لیے فخر کا سامان فراہم کرتا ہے، جس کی بدولت ایک ادنیٰ ذرہ صحرا پر دسترس پا لیتا ہے اور ایک قطرہ دریا سے شناسائی حاصل کر لیتا ہے۔
4
मैं और एक आफ़त का टुकड़ा वो दिल-ए-वहशी कि है आफ़ियत का दुश्मन और आवारगी का आश्ना
میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے عافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا
ایک طرف میں ہوں اور دوسری طرف مصیبت کا ٹکڑا میرا وہ وحشی دل ہے، جو چین و سلامتی کا دشمن اور آوارہ گردی کا دوست ہے۔
5
शिकवा-संज-ए-रश्क-ए-हम-दीगर न रहना चाहिए मेरा ज़ानू मोनिस और आईना तेरा आश्ना
شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہ رہنا چاہیے میرا زانو مونس اور آئینہ تیرا آشنا
ہمیں ایک دوسرے سے باہمی رشک کا شکوہ نہیں کرنا چاہیے؛ میرا گھٹنا میرا غم خوار ہے اور آئینہ تمہارا ساتھی ہے۔
6
कोहकन नक़्क़ाश-ए-यक-तिम्साल-ए-शीरीं था 'असद' संग से सर मार कर होवे न पैदा आश्ना
کوہ کن نقاش یک تمثال شیریں تھا اسدؔ سنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا
اسد، کوہکن محض شیریں کی ایک صورت تراشنے والا نقاش تھا؛ پتھروں سے سر پٹکنے سے کوئی سچا دوست یا محبوب پیدا نہیں ہو سکتا۔
7
ख़ुद-परस्ती से रहे बाहम-दिगर ना-आश्ना बेकसी मेरी शरीक आईना तेरा आश्ना
خود پرستی سے رہے باہم دگر نا آشنا بیکسی میری شریک آئینہ تیرا آشنا
اپنی اپنی خود پسندی کی وجہ سے ہم ایک دوسرے سے انجان ہی رہے؛ بے بسی میری ساتھی بنی اور آئینہ تمہارا دوست رہا۔
8
आतिश-ए-मू-ए-दिमाग़-ए-शौक़ है तेरा तपाक वर्ना हम किस के हैं ऐ दाग़-ए-तमन्ना आश्ना
آتش موئے دماغ شوق ہے تیرا تپاک ورنہ ہم کس کے ہیں اے داغ تمنا آشنا
تمہاری گرم جوشی اور توجہ ہمارے شوق کو مزید بھڑکا دیتی ہے، ورنہ اے داغِ تمنا! ہم بھلا کس سے واقف یا کس کے اپنے ہیں؟
9
जौहर-ए-आईना जुज़ रम्ज़-ए-सर-ए-मिज़गाँ नहीं आश्ना की हम-दिगर समझे है ईमा आश्ना
جوہر آئینہ جز رمز سر مژگاں نہیں آشنا کی ہم دگر سمجھے ہے ایما آشنا
آئینے کا جوہر پلکوں کے اشارے کے سوا کچھ نہیں ہے؛ ایک آشنا ہی دوسرے آشنا کے خفیہ اشاروں کو سمجھتا ہے۔
10
रब्त-ए-यक-शीराज़ा-ए-वहशत हैं अजज़ा-ए-बहार सब्ज़ा बेगाना सबा आवारा गुल ना-आश्ना
ربط یک شیرازۂ وحشت ہیں اجزائے بہار سبزہ بیگانہ صبا آوارہ گل نا آشنا
بہار کے تمام اجزا دیوانگی کے ایک ہی شیرازے میں بندھے ہوئے ہیں؛ سبزہ بیگانہ ہے، بادِ صبا آوارہ ہے اور پھول بالکل ناآشنا ہے۔
11
बे-दिमाग़ी शिकवा-संज-ए-रश्क-ए-हम-दीगर नहीं यार तेरा जाम-ए-मय ख़म्याज़ा मेरा आश्ना
بے دماغی شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہیں یار تیرا جام مے خمیازہ میرا آشنا
میری اداسی اور بے دماغی باہمی حسد کا کوئی شکوہ نہیں کرتی۔ اے دوست! شراب کا جام تیرا ساتھی ہے اور خمیازہ (جمائی) میرا رفیق ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.