“Your ardent warmth sets fire to the delicate nerve of desire; else, O scar of longing, to whom could we ever belong?”
تمہاری گرم جوشی اور توجہ ہمارے شوق کو مزید بھڑکا دیتی ہے، ورنہ اے داغِ تمنا! ہم بھلا کس سے واقف یا کس کے اپنے ہیں؟
غالب اس شعر میں محبوب کے تپاک یعنی گرم جوش التفات اور دل کی تڑپ کو بڑی نزاکت سے بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تمہاری یہ بے پناہ گرمی ہمارے ذوق و شوق کی نازک ترین رگ کو سلگا دیتی ہے۔ پھر وہ اپنے دل کے 'داغِ تمنا' سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اس درد کے سوا آخر دنیا میں ہمارا اپنا کون ہے؟ یعنی محبوب کی دی ہوئی تپش جلاتی ضرور ہے، مگر سچ یہ ہے کہ ادھوری آرزو کا یہ زخم ہی ہمارا سب سے سچا اور مستقل ہمدم ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
