“We should harbour no grievance of mutual envy or despair: / My knee is my companion in sorrow, while the mirror holds your stare.”
ہمیں ایک دوسرے سے باہمی رشک کا شکوہ نہیں کرنا چاہیے؛ میرا گھٹنا میرا غم خوار ہے اور آئینہ تمہارا ساتھی ہے۔
غالب اس شعر میں شوخی اور رنج کے انوکھے انداز میں کہتے ہیں کہ ہمیں باہمی حسد کا کوئی گلہ شکوہ نہیں پالنا چاہیے۔ میں تو فرقت کے غم میں سر زانو پر رکھے بیٹھا ہوں اور میرا زانو ہی میرا واحد غمگسار ہے، جبکہ آپ آئینے کے روبرو اپنی ہی دلکشی کے سحر میں گم ہیں۔ یہ شعر عاشق کے حزن اور محبوب کی خود پسندی کی متوازی تنہائی کو کمال خوبصورتی سے قید کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
