“Jealousy laments, 'Alas, her warmth towards the rival is sincere!' While Reason counters, 'Can one so merciless hold anyone dear?'”
رشک افسوس کرتا ہے کہ محبوب رقیب کے ساتھ مخلص ہے، جبکہ عقل کہتی ہے کہ وہ سنگ دل انسان بھلا کس کا دوست ہو سکتا ہے۔
غالب اس شعر میں دل کے رشک اور عقل کی دلیل کے درمیان جاری کشمکش کی خوبصورت تصویر کشی کرتے ہیں۔ حسد اس بات پر جلتا اور کڑھتا ہے کہ محبوب رقیب سے اتنے خلوص سے کیوں پیش آ رہا ہے، مگر عقل ایک تلخ تسلی دیتی ہے کہ جو سرے سے بے مہر اور سنگدل ہو، وہ بھلا کسی کا سچا دوست کیسے بن سکتا ہے۔ یوں عاشق دل کو بہلا لیتا ہے کہ رقیب کو ملنے والی محبت بھی محض ایک فریب ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
