خود پرستی سے رہے باہم دگر نا آشنا بیکسی میری شریک آئینہ تیرا آشنا

“Through self-adoration we remained strangers to one another; desolation was my companion, the mirror your only confidant.”

— مرزا غالب
معنی

اپنی اپنی خود پسندی کی وجہ سے ہم ایک دوسرے سے انجان ہی رہے؛ بے بسی میری ساتھی بنی اور آئینہ تمہارا دوست رہا۔

تشریح

یہ شعر انا اور خود پسندی کے اس المیے کو بیان کرتا ہے جو دلوں کے درمیان نہ مٹنے والی دوریاں پیدا کر دیتا ہے۔ محبوب اپنے حسن اور خود بینی میں اس قدر گم تھا کہ آئینہ ہی اس کا واحد ہم راز بنا، جبکہ عاشق اپنی تنہائی اور بے بسی کے دکھ میں گھلتا رہا۔ خود میں مقید رہنے کے اسی رویے نے دونوں کو پاس ہو کر بھی ایک دوسرے کے لیے اجنبی بنا دیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.