“The grain upon the mirror is naught but the secret sign of eyelashes; only an intimate soul deciphers the subtle gestures of another intimate.”
آئینے کا جوہر پلکوں کے اشارے کے سوا کچھ نہیں ہے؛ ایک آشنا ہی دوسرے آشنا کے خفیہ اشاروں کو سمجھتا ہے۔
پرانے وقتوں کے فولادی آئینے پر جو باریک لکیریں یا جوہر ہوتے تھے، غالب انہیں پلکوں کا ایک خفیہ اشارہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جسے عام نظریں صرف آئینے کا نقش سمجھتی ہیں، وہ دراصل دو رازداروں کے درمیان ایک خاموش گفتگو ہے۔ یہ شعر محبت کی اس نازک کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں سچے آشنا الفاظ کے بغیر، محض ایک ادنیٰ سے اشارے سے ایک دوسرے کے دل کا بھید پا لیتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
