“Kohkan was but an engraver of a single likeness of Shirin, Asad; striking one's head against stone cannot bring forth a true beloved.”
اسد، کوہکن محض شیریں کی ایک صورت تراشنے والا نقاش تھا؛ پتھروں سے سر پٹکنے سے کوئی سچا دوست یا محبوب پیدا نہیں ہو سکتا۔
غالب اس شعر میں فرہاد (کوہکن) کی روایتی داستان پر ایک گہری اور حقیقت پسندانہ نظر ڈالتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ فرہاد نے پہاڑ کاٹ کر بس شیریں کی ایک بے جان صورت ہی تراشی تھی، مگر پتھروں سے سر ٹکرا کر کبھی کوئی سچا اور باوفا ہمدم پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ شعر دراصل یکطرفہ جنون اور بے حس دنیا سے محبت کی آس لگانے کی لاحاصلی کا بڑا پردرد بیان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
