کوہ کن نقاش یک تمثال شیریں تھا اسدؔ سنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا

“Kohkan was but an engraver of a single likeness of Shirin, Asad; striking one's head against stone cannot bring forth a true beloved.”

— مرزا غالب
معنی

اسد، کوہکن محض شیریں کی ایک صورت تراشنے والا نقاش تھا؛ پتھروں سے سر پٹکنے سے کوئی سچا دوست یا محبوب پیدا نہیں ہو سکتا۔

تشریح

غالب اس شعر میں فرہاد (کوہکن) کی روایتی داستان پر ایک گہری اور حقیقت پسندانہ نظر ڈالتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ فرہاد نے پہاڑ کاٹ کر بس شیریں کی ایک بے جان صورت ہی تراشی تھی، مگر پتھروں سے سر ٹکرا کر کبھی کوئی سچا اور باوفا ہمدم پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ شعر دراصل یکطرفہ جنون اور بے حس دنیا سے محبت کی آس لگانے کی لاحاصلی کا بڑا پردرد بیان ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.