“My sullen spirit bears no jealousy toward your bliss; the cup of wine is your companion, and the weary yawn is mine.”
میری اداسی اور بے دماغی باہمی حسد کا کوئی شکوہ نہیں کرتی۔ اے دوست! شراب کا جام تیرا ساتھی ہے اور خمیازہ (جمائی) میرا رفیق ہے۔
مرزا غالب اس شعر میں اداسی اور بے نیازی کی ایک ایسی کیفیت بیان کرتے ہیں جہاں حسد اور شکوہ بھی دم توڑ دیتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس اب شکایت کرنے یا تم سے جلنے کا حوصلہ بھی نہیں بچا۔ تمہارا مقدر اگر شراب کا جام اور اس کی مستی ہے، تو میرا ہمدم بس خمار، محرومی اور خمیازہ ہے، اور میں نے اپنی اس ویرانی کو دل سے قبول کر لیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
