“Bound in one common sheaf of madness are the parts of spring: the grass an alien, the breeze a vagabond, the rose a stranger.”
بہار کے تمام اجزا دیوانگی کے ایک ہی شیرازے میں بندھے ہوئے ہیں؛ سبزہ بیگانہ ہے، بادِ صبا آوارہ ہے اور پھول بالکل ناآشنا ہے۔
غالبؔ نے اس شعر میں بہار کے روایتی حسن اور ہم آہنگی کے تصور کو الٹ کر رکھ دیا ہے، جہاں یہ موسم وصل کا نہیں بلکہ اجتماعی وحشت کا منظر بن جاتا ہے۔ باغ کا سبزہ بے گانہ ہے، نسیمِ سحر آوارہ گرد بنی پھرتی ہے اور کھلا ہوا گلاب بھی ایک ناآشنا اجنبی کی طرح بے پروا کھڑا ہے۔ یوں بہار کے یہ تمام اجزا اگر کسی ایک شیرازے میں بندھے ہیں، تو وہ ربط دراصل جنون، انتشار اور مشترکہ بیگانگی کا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
