“Passion equips the humble souls with cause for lofty pride: a speck commands the desert vast, a drop embraces the sea.”
شوق عاجز اور بے بس لوگوں کے لیے فخر کا سامان فراہم کرتا ہے، جس کی بدولت ایک ادنیٰ ذرہ صحرا پر دسترس پا لیتا ہے اور ایک قطرہ دریا سے شناسائی حاصل کر لیتا ہے۔
غالب اس شعر میں بتاتے ہیں کہ جب عاجزی اور بے بسی کے دل میں سچے عشق کا ’شوق‘ انگڑائی لیتا ہے، تو انسان کی کمزوری بھی اس کے لیے فخر کا سامان بن جاتی ہے۔ بظاہر انسان خاک کا ایک حقیر ذرہ یا پانی کا ادنیٰ سا قطرہ ہے، مگر اسی جنون کی بدولت وہ ذرہ پورے صحرا کی وسعت سمیٹ لیتا ہے اور قطرہ بیکراں سمندر کا آشنا ہو جاتا ہے۔ یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ سچی لگن اور جذبۂ دروں ایک بے بس وجود کو بھی لامتناہی وسعت عطا کر دیتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
