میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے عافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا

“Behold me, and that fragment of calamity—that wild, untamed heart of mine: a sworn enemy to peace, and an intimate friend to wandering.”

— مرزا غالب
معنی

ایک طرف میں ہوں اور دوسری طرف مصیبت کا ٹکڑا میرا وہ وحشی دل ہے، جو چین و سلامتی کا دشمن اور آوارہ گردی کا دوست ہے۔

تشریح

شاعر اپنے بے چین دل کا شکوہ بڑے پیارے اور شوخ انداز میں کر رہے ہیں، جسے وہ خود ہی ’آفت کا ٹکڑا‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ وحشی دل امن و عافیت کا جانی دشمن بن چکا ہے اور اسے صرف عشق کی بے قراری اور در بدر آوارگی ہی میں اپنا پن محسوس ہوتا ہے۔ اس شعر میں اس قلندرانہ مزاج کو بڑی خوبصورتی سے دکھایا گیا ہے جو سکونِ قلب پر جنون کے سفر کو ترجیح دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.