غزل

پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد

پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
مرزا غالب· Ghazal· 12 shers· radif: मुझे

یہ غزل جنونِ عشق، صحرانوردی اور باطنی تفکر کے شدید جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں غالب نے عشق کے کرب، تنہائی کے سمٹاؤ اور محبوب کے وصال کے وقت دل پر طاری ہونے والی پُرجوش و محوِ حیرت کیفیت کو کمال خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
पा-ब-दामन हो रहा हूँ बस-कि मैं सहरा-नवर्द ख़ार-ए-पा हैं जौहर-ए-आईना-ए-ज़ानू मुझे
پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد خار پا ہیں جوہر آئینۂ زانو مجھے
چونکہ میں صحرا میں بہت بھٹکنے والا ہوں، اس لیے اب اپنے پاؤں سمیٹ کر بیٹھا ہوں؛ میرے پاؤں کے کانٹے میرے گھٹنے کے آئینے کا جوہر بن رہے ہیں۔
2
देखना हालत मिरे दिल की हम-आग़ोशी के वक़्त है निगाह-ए-आश्ना तेरा सर-ए-हर-मू मुझे
دیکھنا حالت مرے دل کی ہم آغوشی کے وقت ہے نگاہ آشنا تیرا سر ہر مو مجھے
بغل گیر ہوتے وقت میرے دل کی حالت دیکھنا، تمہارے جسم کا ہر بال مجھے ایک جانی پہچانی نظر کی طرح دیکھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
3
हूँ सरापा साज़-ए-आहंग-ए-शिकायत कुछ न पूछ है यही बेहतर कि लोगों में न छेड़े तू मुझे
ہوں سراپا ساز آہنگ شکایت کچھ نہ پوچھ ہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے
میں سر سے پاؤں تک شکوے اور شکایت کے سروں سے بھرا ہوا ایک ساز ہوں، اس لیے مجھ سے کچھ مت پوچھو۔ بہتر یہی ہے کہ تم لوگوں کے سامنے مجھے مت چھیڑو۔
4
बाइस-ए-वामांदगी है उम्र-ए-फ़ुर्सत-जू मुझे कर दिया है पा-ब-ज़ंजीर-ए-रम-ए-आहू मुझे
باعث واماندگی ہے عمر فرصت جو مجھے کر دیا ہے پا بہ زنجیر رم آہو مجھے
آرام اور فرصت کی تلاش میں رہنے والی زندگی ہی میری تھکن کا سبب بن گئی ہے، اور ہرن کی تیز رفتار دوڑ نے میرے پاؤں کو زنجیر میں جکڑ دیا ہے۔
5
ख़ाक-ए-फ़ुर्सत बर-सर-ए-ज़ौक़-ए-फ़ना ऐ इंतिज़ार है ग़ुबार-ए-शीशा-ए-साअत रम-ए-आहू मुझे
خاک فرصت برسر ذوق فنا اے انتظار ہے غبار شیشۂ ساعت رم آہو مجھے
اے انتظار! فنا ہونے کے میرے شوق کے بیچ اس ملنے والی مہلت پر خاک پڑے! ریت گھڑی کی اڑتی ہوئی ریت مجھے بھاگتے ہوئے ہرن کی طرح لگتی ہے۔
6
हम-ज़बाँ आया नज़र फ़िक्र-ए-सुख़न में तू मुझे मर्दुमुक है तूती-ए-आईना-ए-ज़ानू मुझे
ہم زباں آیا نظر فکر سخن میں تو مجھے مردمک ہے طوطیٔ آئینۂ زانو مجھے
شاعری کی فکر میں سر گھٹنوں پر جھکائے مجھے تو اپنا ہم زبان دکھائی دیا، اور میری آنکھ کی پتلی گھٹنے کے آئینے کے سامنے گویا وہ طوطا بن گئی جو بولنا سیکھ رہا ہے۔
7
याद-ए-मिज़्गाँ में ब-नश्तर-ए-ज़ार-ए-सौदा-ए-ख़याल चाहिए वक़्त-ए-तपिश यक-दस्त सद-पहलू मुझे
یاد مژگاں میں بہ نشتر زار سودائے خیال چاہیے وقت تپش یک دست صد پہلو مجھے
محبوب کی پلکوں کی یاد میں میرے خیالات کا جنون نشتروں کا میدان بن گیا ہے، اور تڑپ و بے چینی کی اس حالت میں کروٹیں بدلنے کے لیے مجھے بیک وقت سو پہلو درکار ہیں۔
8
इज़्तिराब-ए-उम्र बे-मतलब नहीं आख़िर कि है जुसतुजू-ए-फ़ुर्सत-ए-रब्त-ए-सर-ए-ज़ानू मुझे
اضطراب عمر بے مطلب نہیں آخر کہ ہے جستجوئے فرصت ربط سر زانو مجھے
زندگی کی یہ بے چینی بے مقصد نہیں ہے، کیونکہ دراصل مجھے صرف اتنی فرصت کی تلاش ہے کہ اپنے گھٹنوں پر سر رکھ سکوں۔
9
चाहिए दरमान-ए-रीश-ए-दिल भी तेग़-ए-यार से मरम-ए-ज़ंगार है वो वसमा-ए-अबरू मुझे
چاہیے درمان ریش دل بھی تیغ یار سے مرم زنگار ہے وہ وسمۂ ابرو مجھے
مجھے اپنے دل کے زخم کا علاج بھی محبوب کی تلوار سے ہی چاہیے، کیونکہ اس کی بھنوؤں کا وسمہ میرے لیے زنگار کے مرہم کی طرح ہے۔
10
कसरत-ए-जौर-ओ-सितम से हो गया हूँ बे-दिमाग़ ख़ूब-रूयों ने बनाया 'ग़ालिब'-ए-बद-ख़ू मुझे
کثرت جور و ستم سے ہو گیا ہوں بے دماغ خوب رویوں نے بنایا غالبؔ بد خو مجھے
مسلسل ظلم و ستم کی زیادتی کی وجہ سے میرا صبر ختم ہو گیا ہے، اور حسین چہروں والوں نے مجھ غالبؔ کو ایک بد مزاج شخص بنا دیا ہے۔
11
फ़ुर्सत-ए-आराम-ए-ग़श हस्ती है बोहरान-ए-अदम है शिकस्त-ए-रंग-ए-इम्काँ गर्दिश-ए-पहलू मुझे
فرصت آرام غش ہستی ہے بحران عدم ہے شکست رنگ امکاں گردش پہلو مجھے
زندگی عدم کے بحران میں بے ہوشی کے دوران آرام کا ایک مختصر وقفہ ہے، اور امکانات کے رنگ کا اڑ جانا میرے لیے محض بے چینی سے کروٹیں بدلنا ہے۔
12
साज़-ए-ईमा-ए-फ़ना है आलम-ए-पीरी 'असद' क़ामत-ए-ख़म से है हासिल शोख़ी-ए-अबरू मुझे
ساز ایمائے فنا ہے عالم پیری اسدؔ قامت خم سے ہے حاصل شوخیٔ ابرو مجھے
اے اسدؔ، بڑھاپے کی حالت فنا کی طرف اشارہ کرنے والا ایک ساز ہے، اور میرے جھکے ہوئے قد نے مجھے ابرو کی سی شوخی عطا کر دی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.