یاد مژگاں میں بہ نشتر زار سودائے خیال — مرزا غالب

یاد مژگاں میں بہ نشتر زار سودائے خیال چاہیے وقت تپش یک دست صد پہلو مجھے

“In remembrance of her lashes amid the lancet-grove of fevered thought, in the hour of burning agony I need a hundred flanks at once to toss upon.”

— مرزا غالب

معنی

محبوب کی پلکوں کی یاد میں میرے خیالات کا جنون نشتروں کا میدان بن گیا ہے، اور تڑپ و بے چینی کی اس حالت میں کروٹیں بدلنے کے لیے مجھے بیک وقت سو پہلو درکار ہیں۔

تشریح

غالب اس شعر میں محبوب کے فراق اور اضطراب کی انتہا کو بیان کر رہے ہیں۔ محبوب کی تیکھی پلکوں کی یاد ان کے ذہن میں نشتروں کے جنگل کی طرح چبھتی ہے، جس سے ان کا پورا وجود ہجر کی تپش سے سلگنے لگتا ہے۔ بے چینی اور کروٹیں بدلنے کی شدت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ کہتے ہیں صرف دو پہلو کافی نہیں، کاش میرے پاس بیک وقت سو پہلو ہوں تاکہ اس بے قرار تڑپ کا بوجھ سنبھال سکوں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.