ہوں سراپا ساز آہنگ شکایت کچھ نہ پوچھ — مرزا غالب
“I am from head to toe an instrument tuned to the melody of lament, ask me nothing; it is best you do not touch my chords before the world.”
معنی
میں سر سے پاؤں تک شکوے اور شکایت کے سروں سے بھرا ہوا ایک ساز ہوں، اس لیے مجھ سے کچھ مت پوچھو۔ بہتر یہی ہے کہ تم لوگوں کے سامنے مجھے مت چھیڑو۔
تشریح
اس خوبصورت شعر میں شاعر نے خود کو سر سے پاؤں تک ایک ایسا ساز قرار دیا ہے جس کا ہر تار صرف شکوے اور درد کی دھن میں بندھا ہے۔ یہاں لفظ 'چھیڑنا' بڑی دلکش رعایت کے ساتھ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ساز کو بجانا بھی ہے اور کسی کو باتوں میں ٹٹولنا یا اکسانا بھی۔ شاعر اپنے محبوب کو خبردار کرتا ہے کہ محفل میں اس سے کچھ نہ پوچھے، مبادا کہ ضبط کا بندھن ٹوٹ جائے اور ان کے پوشیدہ دکھ سب کے سامنے طشت از بام ہو جائیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
