خاک فرصت برسر ذوق فنا اے انتظار — مرزا غالب
“Dust on the respite that delays my thirst for doom, O waiting! / The sand within the hourglass seems a fleeing gazelle to me.”
معنی
اے انتظار! فنا ہونے کے میرے شوق کے بیچ اس ملنے والی مہلت پر خاک پڑے! ریت گھڑی کی اڑتی ہوئی ریت مجھے بھاگتے ہوئے ہرن کی طرح لگتی ہے۔
تشریح
اس شعر میں غالب فنا کی تڑپ اور انتظار کی بے تابی کو ایک انوکھے انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ اس مہلت پر خاک ڈالتے ہیں جو انہیں ان کی آخری منزل سے دور رکھے ہوئے ہے۔ ریت گھڑی میں گرتی ہوئی ریت انہیں کسی چوکڑیاں بھرتے، بھاگتے ہوئے ہرن کی طرح لگتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بے قراری کے عالم میں وقت کس قدر وحشت اور تیزی سے بھاگتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
