کثرت جور و ستم سے ہو گیا ہوں بے دماغ — مرزا غالب
“Exhausted by relentless cruelties, my patience has worn thin; the fair-faced beauties turned me into an ill-tempered Ghalib from within.”
معنی
مسلسل ظلم و ستم کی زیادتی کی وجہ سے میرا صبر ختم ہو گیا ہے، اور حسین چہروں والوں نے مجھ غالبؔ کو ایک بد مزاج شخص بنا دیا ہے۔
تشریح
اس شعر میں غالب اپنی چڑچڑاہٹ اور تلخ مزاجی کا شکوہ بڑے شوخ اور دل نشیں انداز میں کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں پیدائشی طور پر بدخو اور جھنجھلایا ہوا نہیں تھا، بلکہ حسینوں کے مسلسل ظلم، ستم اور بے اعتنائی نے میرا سارا صبر و ہوش چھین لیا ہے۔ غالب کمال کی خود طنزی کے ساتھ اپنی اس بگڑی ہوئی طبیعت کا سارا الزام محبوب کے ستم کے سر ڈال دیتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
