چاہیے درمان ریش دل بھی تیغ یار سے — مرزا غالب
“For my heart’s wound, I seek a cure from the beloved’s sword alone; to me, the dark dye upon her arched brow is a healing salve of verdigris.”
معنی
مجھے اپنے دل کے زخم کا علاج بھی محبوب کی تلوار سے ہی چاہیے، کیونکہ اس کی بھنوؤں کا وسمہ میرے لیے زنگار کے مرہم کی طرح ہے۔
تشریح
اس شعر میں عاشق اپنے زخمی دل کا علاج بھی اسی محبوب کی تیغ سے چاہتا ہے جس نے اسے یہ گھاؤ دیا ہے۔ محبوب کی خمدار بھنویں ایک تلوار کی مانند ہیں اور ان پر لگی وسمہ کی کالی رنگت کٹے ہوئے زخم پر لگائے جانے والے مرہم کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ یہ عشق کا وہ دلکش تضاد ہے جہاں درد کا سبب بھی محبوب ہے اور اس کا علاج بھی وہی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
