پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد — مرزا غالب
“So long have I roamed the desert that now I draw my feet into my lap, bent low; The thorns embedded in my soles become the grain upon my knee's reflective glow.”
معنی
چونکہ میں صحرا میں بہت بھٹکنے والا ہوں، اس لیے اب اپنے پاؤں سمیٹ کر بیٹھا ہوں؛ میرے پاؤں کے کانٹے میرے گھٹنے کے آئینے کا جوہر بن رہے ہیں۔
تشریح
غالب اس شعر میں بے پایاں آوارگی کے بعد اس لمحے کی تصویر کشی کرتے ہیں جب تھک ہار کر انسان دامن سمیٹے گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ جاتا ہے۔ سمٹ کر بیٹھنے سے عاشق کے گھٹنے ایک صاف آئینے کی طرح لگتے ہیں، اور پاؤں میں پیوست کانٹے اس آئینے کا ’جوہر‘ یعنی باریک جوہر نما لکیریں بن جاتے ہیں۔ یہ گہرا خیال ظاہر کرتا ہے کہ عشق کے سفر کے زخم اب محض اذیت نہیں رہے، بلکہ عاشق کے باطن اور خود شناسی کا ناگزیر حسن بن چکے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
