ہم زباں آیا نظر فکر سخن میں تو مجھے — مرزا غالب

ہم زباں آیا نظر فکر سخن میں تو مجھے مردمک ہے طوطیٔ آئینۂ زانو مجھے

“Lost in the thought of verse, I found in you a kindred tongue; the pupil of my eye became the parrot in the mirror of my knee.”

— مرزا غالب

معنی

شاعری کی فکر میں سر گھٹنوں پر جھکائے مجھے تو اپنا ہم زبان دکھائی دیا، اور میری آنکھ کی پتلی گھٹنے کے آئینے کے سامنے گویا وہ طوطا بن گئی جو بولنا سیکھ رہا ہے۔

تشریح

غالب اس شعر میں فکرِ سخن کی اس گہری کیفیت کا نقشہ کھینچتے ہیں جب شاعر گھٹنوں پر سر رکھے مراقبے کے عالم میں تنہا بیٹھا ہوتا ہے۔ پرانے زمانے میں طوطے کو بولنا سکھانے کے لیے آئینے کے سامنے رکھا جاتا تھا تاکہ وہ اپنے ہی عکس کو دوسرا پرندہ سمجھ کر بولنے لگے۔ شاعر کا جھکا ہوا گھٹنا آئینے کی مانند ہے اور اس کی پتلی اس کے روبرو بیٹھا طوطا؛ یعنی تخلیق کی اس گہری تنہائی میں اس کا ہم کلام اور ہم زبان کوئی دوسرا نہیں بلکہ اس کا اپنا ہی وجود ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.