ساز ایمائے فنا ہے عالم پیری اسدؔ — مرزا غالب

ساز ایمائے فنا ہے عالم پیری اسدؔ قامت خم سے ہے حاصل شوخیٔ ابرو مجھے

“Old age, Asad, is but a prelude gesturing towards mortal doom; from my stooped frame, I have gained the flirtatious arch of an eyebrow.”

— مرزا غالب

معنی

اے اسدؔ، بڑھاپے کی حالت فنا کی طرف اشارہ کرنے والا ایک ساز ہے، اور میرے جھکے ہوئے قد نے مجھے ابرو کی سی شوخی عطا کر دی ہے۔

تشریح

غالبؔ نے اس شعر میں بڑھاپے کی کمزوری اور موت کے احساس کو بھی کمال کی شوخی اور ظرافت کا جامہ پہنا دیا ہے۔ جھکی ہوئی کمر دراصل زندگی کے خاتمے کا کھلا اشارہ ہے، مگر شاعر اپنے اس خمیدہ وجود کو محبوب کے شوخ و چنچل ابرو سے تشبیہ دے کر موت کو بھی چھیڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ فنا کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بھی مسکرا کر رخصت ہونے کا ایک لاجواب اور زندہ دل انداز ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev12 / 12