غزل

ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں

ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں
مرزا غالب· Ghazal· 19 shers· radif: नहीं

یہ غزل ایک ایسے عاشق کی اٹوٹ عقیدت کو بیان کرتی ہے جو اپنے بے مروت یا بے پروا محبوب کے لیے وقف ہے۔ سختیوں کا سامنا کرنے کے باوجود، عاشق بے وفائی پر یقین نہیں کرتا، بلکہ محبوب کے اعمال کو شرارت یا محبت کی ایک انوکھی شکل سمجھتا ہے۔ یہ اشعار تعلق کی تڑپ کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں مکمل نظرانداز کرنے کے بجائے ایک نظر یا ایک گالی کو بھی ترجیح دی جاتی ہے، جو محبت کی گہری اور اکثر متضاد نوعیت کو اجاگر کرتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
हम पर जफ़ा से तर्क-ए-वफ़ा का गुमाँ नहीं इक छेड़ है वगरना मुराद इम्तिहाँ नहीं
ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیں اک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیں
آپ کی جفا سے ہمیں آپ کی وفا ترک کرنے کا گمان نہیں ہوتا۔ یہ تو محض ایک چھیڑ ہے، ورنہ آپ کا ارادہ امتحان لینا نہیں ہے۔
2
किस मुँह से शुक्र कीजिए इस लुत्फ़-ए-ख़ास का पुर्सिश है और पा-ए-सुख़न दरमियाँ नहीं
کس منہ سے شکر کیجئے اس لطف خاص کا پرسش ہے اور پاے سخن درمیاں نہیں
اس خاص کرم کے لیے میں کس منہ سے شکر ادا کروں؟ میرا حال پوچھا جا رہا ہے، مگر بولنے کی گنجائش نہیں ہے۔
3
हम को सितम अज़ीज़ सितमगर को हम अज़ीज़ ना-मेहरबाँ नहीं है अगर मेहरबाँ नहीं
ہم کو ستم عزیز ستم گر کو ہم عزیز نا مہرباں نہیں ہے اگر مہرباں نہیں
ہم کو ستم عزیز ہے اور ستمگر کو ہم عزیز ہیں۔ اگر وہ مہربان نہیں ہے، تو وہ بے مہر نہیں ہے۔
4
बोसा नहीं न दीजिए दुश्नाम ही सही आख़िर ज़बाँ तो रखते हो तुम गर दहाँ नहीं
بوسہ نہیں نہ دیجیے دشنام ہی سہی آخر زباں تو رکھتے ہو تم گر دہاں نہیں
اگر آپ بوسہ نہیں دیتے تو کوئی بات نہیں، گالیاں ہی دے دیجیے۔ آخر آپ کے پاس زبان تو ہے، بھلے ہی آپ منہ (بوسہ دینے کے لیے) نہ رکھتے ہوں۔
5
हर-चंद जाँ-गुदाज़ी-ए-क़हर-ओ-इताब है हर-चंद पुश्त-ए-गर्मी-ए-ताब-ओ-तवाँ नहीं
ہر چند جاں گدازی قہر و عتاب ہے ہر چند پشت گرمی تاب و تواں نہیں
اگرچہ جان گداز قہر اور عتاب ہے، اور طاقت و توانائی کی کوئی پشت پناہی نہیں ہے۔
6
जाँ मुतरिब-ए-तराना-ए-हल-मिम-मज़ीद है लब पर्दा-संज-ए-ज़मज़मा-ए-अल-अमाँ नहीं
جاں مطرب ترانۂ ہل من مزید ہے لب پردہ سنج زمزمۂ الاماں نہیں
میری جان 'کیا اور ہے؟' کا ترانہ گانے والی مطرب ہے۔ میرے لب 'الاماں!' (رحم/حفاظت!) کا زمزمہ نہیں گا رہے ہیں۔
7
ख़ंजर से चीर सीना अगर दिल न हो दो-नीम दिल में छुरी चुभो मिज़ा गर ख़ूँ-चकाँ नहीं
خنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دو نیم دل میں چھری چبھو مژہ گر خونچکاں نہیں
اگر دل دو نیم نہ ہو تو خنجر سے سینہ چیر دو۔ اگر دل کا جوہر خون نہ ٹپکا رہا ہو تو اس میں چھری چبھو دو۔
8
है नंग-ए-सीना दिल अगर आतिश-कदा न हो है आर-ए-दिल नफ़स अगर आज़र-फ़िशाँ नहीं
ہے ننگ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہو ہے عار دل نفس اگر آذر فشاں نہیں
اگر دل آتش کدہ نہ ہو تو وہ سینے کے لیے شرم ہے۔ اگر سانس غم نہ بکھیرے تو وہ دل کے لیے عار ہے۔
9
नुक़साँ नहीं जुनूँ में बला से हो घर ख़राब सौ गज़ ज़मीं के बदले बयाबाँ गिराँ नहीं
نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خراب سو گز زمیں کے بدلے بیاباں گراں نہیں
جنوں میں کوئی نقصان نہیں، بھلے ہی گھر خراب ہو جائے۔ سو گز زمین کے بدلے بیاباں (ویران جنگل) گراں نہیں ہے۔
10
कहते हो क्या लिखा है तिरी सरनविश्त में गोया जबीं पे सजदा-ए-बुत का निशाँ नहीं
کہتے ہو کیا لکھا ہے تری سر نوشت میں گویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں
تم پوچھتے ہو کہ تمہاری قسمت میں کیا لکھا ہے، گویا تمہاری پیشانی پر بت پرستی کے سجدے کا کوئی نشان نہیں ہے۔
11
पाता हूँ उस से दाद कुछ अपने कलाम की रूहुल-क़ुदुस अगरचे मिरा हम-ज़बाँ नहीं
پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کی روح القدس اگرچہ مرا ہم زباں نہیں
مجھے اپنے کلام کی کچھ داد روح القدس سے ملتی ہے، اگرچہ روح القدس میرا ہم زبان نہیں ہے۔
12
जाँ है बहा-ए-बोसा वले क्यूँ कहे अभी 'ग़ालिब' को जानता है कि वो नीम-जाँ नहीं
جاں ہے بہائے بوسہ ولے کیوں کہے ابھی غالبؔ کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں نہیں
جان ہے ایک بوسے کی قیمت، لیکن ابھی اس کا ذکر کیوں کیا جائے؟ ہر کوئی غالب کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں نہیں ہے۔
13
जिस जा कि पा-ए-सैल-ए-बला दरमियाँ नहीं दीवानगाँ को वाँ हवस-ए-ख़ानमाँ नहीं
جس جا کہ پائے سیل بلا درمیاں نہیں دیوانگاں کو واں ہوس خانماں نہیں
جس جگہ آفت یا مصیبت کے سیلاب کا ذرا بھی عمل دخل نہیں ہوتا، وہاں دیوانے لوگ گھر یا گھریلو زندگی کی کوئی خواہش نہیں رکھتے۔
14
गुल ग़ुन्चग़ी में ग़र्क़ा-ए-दरिया-ए-रंग है ऐ आगही फ़रेब-ए-तमाशा कहाँ नहीं
گل غنچگی میں غرقۂ دریائے رنگ ہے اے آگہی فریب تماشا کہاں نہیں
گُل اپنی غنچگی کی حالت میں ہی رنگوں کے دریا میں غرق ہے۔ اے آگہی، تماشے کا یہ فریب ہر جگہ موجود ہے۔
15
किस जुर्म से है चश्म तुझे हसरत क़ुबूल बर्ग-ए-हिना मगर मिज़ा-ए-ख़ूँ-फ़िशाँ नहीं
کس جرم سے ہے چشم تجھے حسرت قبول برگ حنا مگر مژۂ خوں فشاں نہیں
اے چشم، کس جرم کی بنا پر تو اس حسرت کو قبول کرتی ہے؟ کیا تیری خون بہانے والی پلکیں حنا کے پتوں جیسی نہیں ہیں؟
16
हर रंग-ए-गर्दिश आइना ईजाद-ए-दर्द है अश्क-ए-सहाब जुज़ ब-विदा-ए-ख़िज़ाँ नहीं
ہر رنگ گردش آئنہ ایجاد درد ہے اشک سحاب جز بہ وداع خزاں نہیں
قسمت کے ہر بدلتے رنگ یا ہر گردش میں آئینہ درد ایجاد کرتا ہے۔ بادل کے آنسو خزاں کی الوداع کے سوا کچھ نہیں ہیں۔
17
जुज़ इज्ज़ क्या करूँ ब-तमन्ना-ए-बे-ख़ुदी ताक़त हरीफ़-ए-सख़्ती-ए-ख़्वाब-ए-गिराँ नहीं
جز عجز کیا کروں بہ تمنائے بے خودی طاقت حریف سختیٔ خواب گراں نہیں
میں بے خودی کی تمنا میں عاجزی کے سوا اور کیا کروں؟ میری طاقت گہری نیند کی سختی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
18
इबरत से पूछ दर्द-ए-परेशानी-ए-निगाह ये गर्द-ए-वहम जुज़ बसर-ए-इम्तिहाँ नहीं
عبرت سے پوچھ درد پریشانیٔ نگاہ یہ گرد وہم جز بسر امتحاں نہیں
عبرت سے پریشان نگاہوں کے درد کے بارے میں پوچھو۔ یہ وہم کی گرد نگاہ کے لیے محض ایک امتحان ہے۔
19
बर्क़-ए-बजान-ए-हौसला आतिश-फ़गन 'असद' ऐ दिल-फ़सुर्दा ताक़त-ए-ज़ब्त-ए-फ़ुग़ाँ नहीं
برق بجان حوصلہ آتش فگن اسدؔ اے دل فسردہ طاقت ضبط فغاں نہیں
اسد، حوصلے کی جان میں بجلی آگ لگاتی ہے۔ اے افسردہ دل، آہ و بکا کو ضبط کرنے کی اب طاقت نہیں ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.