غزل

آرزو ہے وفا کرے کوئی

آرزو ہے وفا کرے کوئی
داغ دہلوی· Ghazal· 12 shers· radif: करे कोई

یہ غزل محبت میں بے بسی، بے رخی اور لاچاری کے درد ناک جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں یہ پُراثر خیال پیش کیا گیا ہے کہ مرض کا علاج تو ممکن ہے، لیکن دل کی بے دلی اور فنا کے راستے پر گامزن عاشق کا کوئی چارہ نہیں۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
आरज़ू है वफ़ा करे कोई जी न चाहे तो क्या करे कोई
آرزو ہے وفا کرے کوئی جی نہ چاہے تو کیا کرے کوئی
یہ خواہش تو ہوتی ہے کہ کوئی وفاداری نبھائے، لیکن اگر کسی کا دل ہی نہ چاہے تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔
2
गर मरज़ हो दवा करे कोई मरने वाले का क्या करे कोई
گر مرض ہو دوا کرے کوئی مرنے والے کا کیا کرے کوئی
اگر کوئی بیماری ہو تو انسان اس کا علاج کرے، لیکن جو مرنے کے قریب ہی ہو اس کا کوئی کیا کر سکتا ہے۔
3
कोसते हैं जले हुए क्या क्या अपने हक़ में दुआ करे कोई
کوستے ہیں جلے ہوئے کیا کیا اپنے حق میں دعا کرے کوئی
دل جلے اور ستائے ہوئے لوگ کس قدر بددعائیں دیتے ہیں، ایسے عالم میں کوئی اپنے فائدے یا بھلائی کی دعا کیسے مانگ سکتا ہے۔
4
उन से सब अपनी अपनी कहते हैं मेरा मतलब अदा करे कोई
ان سے سب اپنی اپنی کہتے ہیں میرا مطلب ادا کرے کوئی
سب لوگ ان سے اپنی اپنی بات کرتے ہیں، کاش کوئی ایسا ہو جو میرا مقصد اور مدعا ان تک پہنچا سکے۔
5
चाह से आप को तो नफ़रत है मुझ को चाहे ख़ुदा करे कोई
چاہ سے آپ کو تو نفرت ہے مجھ کو چاہے خدا کرے کوئی
آپ کو تو محبت اور چاہت سے نفرت ہے، خدا کرے کہ کوئی مجھ سے محبت کرے۔
6
उस गिले को गिला नहीं कहते गर मज़े का गिला करे कोई
اس گلے کو گلہ نہیں کہتے گر مزے کا گلا کرے کوئی
اس شکایت کو گلہ نہیں کہا جا سکتا، اگر کوئی شکایت کسی مزے یا لطف کے بارے میں کرے۔
7
ये मिली दाद रंज-ए-फ़ुर्क़त की और दिल का कहा करे कोई
یہ ملی داد رنج فرقت کی اور دل کا کہا کرے کوئی
جدائی کے دکھ کا مجھے یہ صلہ ملا ہے، اب اس کے بعد کوئی اور اپنے دل کے کہنے پر چل کر دیکھے۔
8
तुम सरापा हो सूरत-ए-तस्वीर तुम से फिर बात क्या करे कोई
تم سراپا ہو صورت تصویر تم سے پھر بات کیا کرے کوئی
تم سر سے پاؤں تک بالکل ایک تصویر کی مانند ہو، پھر بھلا کوئی تم سے کیسے بات کرے۔
9
कहते हैं हम नहीं ख़ुदा-ए-करीम क्यूँ हमारी ख़ता करे कोई
کہتے ہیں ہم نہیں خدائے کریم کیوں ہماری خطا کرے کوئی
ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم بخشنے والے مہربان خدا ہیں، پھر بھلا کوئی ہمارے سامنے خطا یا غلطی کیوں کرے؟
10
जिस में लाखों बरस की हूरें हों ऐसी जन्नत को क्या करे कोई
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں ایسی جنت کو کیا کرے کوئی
جس جنت میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں، کوئی ایسی جنت کا بھلا کیا کرے؟
11
इस जफ़ा पर तुम्हें तमन्ना है कि मिरी इल्तिजा करे कोई
اس جفا پر تمہیں تمنا ہے کہ مری التجا کرے کوئی
اس قدر ظلم و ستم کے باوجود تم یہ خواہش رکھتے ہو کہ کوئی میری خاطر تم سے التجا اور منت کرے۔
12
मुँह लगाते ही 'दाग़' इतराया लुत्फ़ है फिर जफ़ा करे कोई
منہ لگاتے ہی داغؔ اترایا لطف ہے پھر جفا کرے کوئی
تھوڑی سی توجہ ملتے ہی داغ اترانے لگا، اب تو لطف اسی میں ہے کہ کوئی اس کے ساتھ پھر سے بے رخی اور ظلم کرے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.