اس گلے کو گلہ نہیں کہتے گر مزے کا گلا کرے کوئی

“That grievance cannot truly be called a complaint, if it is of delight itself that one complains.”

— داغ دہلوی
معنی

اس شکایت کو گلہ نہیں کہا جا سکتا، اگر کوئی شکایت کسی مزے یا لطف کے بارے میں کرے۔

تشریح

شاعر یہاں محبت کی اس دلکش ادا کا ذکر کر رہے ہیں جہاں شکوہ بھی دراصل اظہارِ تشکر بن جاتا ہے۔ اگر کوئی محبوب سے یہ شکایت کرے کہ اس کے التفات اور پیار میں حد سے زیادہ لطف اور سرور ہے، تو وہ گلہ درحقیقت گلہ نہیں بلکہ بے پایاں خوشی کا اعتراف ہے۔ عشق میں ایسی میٹھی چھیڑ چھاڑ رنجش ظاہر نہیں کرتی، بلکہ محبوب کی قربت اور ناز و انداز کا لطف دوبالا کرتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.